اس وقت عمومی طور پر دو طرح کی آرا سامنے آرہی ہیں ۔۔۔اور دونوں اپنی جگہ پر مخلص ہیں ، دونوں گروہ اپنی رائے درد دل کے ساتھ پیش کر رہے ہیں ۔۔...
اس وقت عمومی طور پر دو طرح کی آرا سامنے آرہی ہیں ۔۔۔اور دونوں اپنی جگہ پر مخلص ہیں ، دونوں گروہ اپنی رائے درد دل کے ساتھ پیش کر رہے ہیں ۔۔سو اس حوالے تلخ ہونا انتہائی غلط ہے ۔۔۔
ایک طبقہ وہ ہے جو اسر۔۔ائیل پر کیے گئے راکٹ حملوں کو درست سمجھتا ہے اس کو بہادری کا مظہر سمجھتا ہے اور اس کے نتیجے میں اسرا ۔ ئیل کو پہنچنے والے نقصانات پر بہت شاداں و فرحاں ہے ۔۔اور مظلوم جو مجبور ہو کر پتھر پکڑ کر پلٹ پڑے ہیں ان کی تحسین کر رہا ہے ۔۔اور یہ حقیقت بھی ہے کہ مجبور اور مظلوم کبھی نفع نقصان کی پرواہ کیے بغیر بھی غنیم سے الجھ ہی پڑتا ہے ۔۔اور اس میں وہ حق بجانب بھی ہوتا ہے اس کے اس عمل کو ہمیشہ بے وقوفی نہیں کہا جا سکتا ۔۔اور اس الجھنیں میں بھی خیر کا ایک پہلو ہے کہ دنیا اس مسئلہ کی حساسیت کو فراموش نہیں کر پا رہی ۔۔یعنی ان مظلوموں نے اس مسئلہ کو زندہ رکھا ہوا ہے ۔۔
دوسرا وہ طبقہ ہے کہ جو ان راکٹ حملوں کو بڑی مصیبت اپنے گلے لگانے کا سبب سمجھتا ہے ، اور ان پر تنقید کرتا ہے اس کا کہنا ہے یہ حملے دشمن کا بہت بڑا نقصان نہیں کرتے لیکن اس کو مضبوط جواز فراہم کرتے ہیں کہ وہ مسلمان علاقوں پر حملہ کرکے تباہی پھیلا دے ۔
جیسا کہ آج رات کی خبر ہے کہ یہود نے مسلمان علاقے میں دوسری بڑی بلڈنگ کو میزائلوں سے حملہ کر کے برباد کر دیا ہے جبکہ چند روز پہلے غز ۔ہ کی سب سے بلند بلڈنگ کو میزائلوں سے تباہ کردیا گیا اب وہاں پر صرف ملبہ ہے یا حسرتیں ۔اب تک تقریبا ڈیڑھ سو مسلمان اللہ کی راہ میں قربان ہو چکے ہیں جبکہ سینکڑوں زخمی ہے اور بیسیوں بلڈنگ تباہ ہو چکی ہیں جن میں غز ہ کی دو سب سے بڑی بلڈنگ بھی شامل ہے جو زمین بوس ہو چکی ہیں۔۔
اس موجودہ جنگ کا نتیجہ بالکل واضح ہے ۔۔ممکن حد تک مزید تباہی ہو گی ، اس کے بعد دنیا میں مداخلت کرے گی اور جنگ بندی ہو جائے گی ۔ڈیڑھ سو افراد جو دنیا سے گئے وہ واپس نہیں آئیں گے مسلمانوں کی کمزوری مزید واضح ہو جائے گی ۔
اب اس حوالے سے سوچنا یہ ہے کہ دونوں طبقات میں سے کس کا موقف درست ہے ؟
یہ عرض کر چکا کہ دونوں ہی اپنی جگہ پر مخلص ہیں ، کوئی مسلمانوں کا دشمن نہیں بلکہ دونوں طبقات اپنی رائے نہایت دیانتداری سے دے رہے ہیں ۔۔۔ ایسے میں جو دوست اپنے سے مخالف رائے دینے والے کے بارے میں بدزبانی کر رہے ہیں ان کا طرز عمل درست نہیں ۔۔
میں ذاتی طور پر اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ آگے بڑھ کر مصیبت کو دعوت نہیں دینی چاہیے ۔۔امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا واقعہ اس حوالے سے بہترین دلیل ہے ، کہ کچھ تاتاری سوئے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے ان کے ساتھ شرارت کرنا چاہی تو امام نے کہا کہ ایسا کرنا حرام ہے ۔۔ان کا موقف تھا کہ جب فتنہ سویا ہوا ہے تو اس کو جگانا درست نہیں ۔۔یاد رہے کہ حضرت امام کے بارے میں کوئی بزدلی کا طعنہ نہیں دے سکتا کیونکہ جب تاتاریوں کا سیلاب مسلمانوں کو بہائے لے جا رہا تھا یہ آپ ہی تھے جنہوں نے جہاد کو منظم کیا اور تاتاریوں کے سیلاب کے آگے بند باندھا ۔۔۔
لیکن جب مصیبت آن پڑے تو مقابلے سے بھاگنا بزدلوں کا کام ہے ۔۔تب پھر نفع نقصان کے بنا ڈٹ جانا ہی مردانگی ہے ۔۔۔۔
لیکن اس سے اگلی بات یہ ہے کہ جب مصیبت سر پر آن پڑے ، بھلے ہمارے اپنے ہی کسی بھائی کی بے تدبیری سے آئی ، یا تقدیر کے سبب ۔۔۔۔تو اس کے بعد اپنا رخ دشمن کی طرف کر لیتے ہیں اور اپنے نادان بھائیوں کو بھی کوسنا ، برا بھلا کہنا ، ڈانٹنا مصیبت کے خاتمے کے بعد تک کے لیے موخر کر دیتے ہیں ۔۔۔۔
غلطی سے ، بے تدبیری سے ۔۔جس وجہ سے بھی ، مصیبت سر پر آن پڑی ہے ۔۔۔اب تمام امت مسلمہ کو ، ہر مسلک ، ہر فکری گروہوں کے کارکنان کو ایک دوسرے پر طعنہ زنی کرنے کی بجائے اپنا رخ دشمن کی طرف رکھنا چاہیے ۔۔
سو احباب ! اس وقت درست اور نا درست کی بحث کو ترک کر کے اپنا پورا فوکس مظلوم فلس طینیوں کی حمایت پر رکھیں ۔۔۔۔۔ابوبکر قدوسی
کوئی تبصرے نہیں