Page Nav

HIDE

بلاگ آرکائیو

Grid

GRID_STYLE

بریکنگ نیوز

latest

عید کا چاند

پہلے دن کے چاند کی حقیقت  سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر 13 مئی کے چاند کی تصاویر کا طوفان برپا ہے اور کہا جارہا ہے کہ "یہ دیکھیں جناب یہ دوس...



پہلے دن کے چاند کی حقیقت

 سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر 13 مئی کے چاند کی تصاویر کا طوفان برپا ہے اور کہا جارہا ہے کہ "یہ دیکھیں جناب یہ دوسری کا چاند ہے" ۔ حیران کن بات ہے کہ یہ دعویٰ کرنے والے تمام افراد علم فلکیات نہیں جانتے۔ ان سے پوچھا جائے کہ 12 مئی کو چاند کی افق سے اونچائی، زاویہ اور مقام کیا تھا تو انہیں معلوم نہیں ہوگا مگر انہیں یہ ضرور معلوم ہے کہ 13 مئی کو دکھائی دینے والا چاند دوسری تاریخ کا تھا۔ اس سارے scenario میں آپ کو ماہرین فلکیات یا علم فلکیات جاننے والے علماء کرام خاموش دکھائی دیں گے، ایسا کیوں ہے؟ اس کا جواب آخر میں سمجھیں گے۔ اس ضمن میں عام شخص تذبذب کا شکار ہے کہ یہ سب کیا ہوا؟ کیا سائنس فیل ہوگئی؟ یہ اعلان کس حد تک درست تھا؟ ان تمام سوالات کو اس پوسٹ میں سمجھنے کی کوشش کریں گے۔

رویت ہلال کمیٹی کے اندرونی معاملات کی کہانی ان کا کوئی رکن ہی بہتر بتا سکتا ہے، مگر ہم یہاں سائنسی و تکنیکی اعتبار سے اس فیصلے کو مختصر انداز میں سمجھتے ہیں۔ ہماری عوام کی بڑی اکثریت کا خیال ہے کہ شاید سائنس ان معاملات میں پختہ نہیں ہے، جس وجہ سے سائنس پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا جو کہ انتہائی غلط خیال ہے۔ سائنسی حساب کتاب کس حد تک مستند ہے، اس کا اندازہ ایسے لگائیے کہ سورج گرہن اور چاند گرہن کا جو وقت فلکیاتی حساب کتاب کے ذریعے ہمیں معلوم ہوتا ہے ہے عین اسی وقت چاند اور سورج کو گرہن لگتا ہے۔ یاد رہے کہ سورج گرہن کے دوران سورج، چاند اور زمین ایک لائن میں آجاتے ہیں۔ اس دوران دراصل نئے چاند کی پیدائش ہی ہو رہی ہوتی ہے، جس کے ذریعہ ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ فلکیاتی حساب کتاب پر ہم اعتبار کر سکتے ہیں اور یہ اُس وقت بھی چاند کی درست پوزیشن بتاتا ہے، جب ہمیں چاند عام آنکھ سے دکھائی نہیں دے رہا ہوتا۔ چاند کی پیدائش پوری دنیا میں ایک ہی بار ہوتی ہے۔

چاند اپنی پیدائش کے کتنے گھنٹے بعد دکھائی دینا شروع ہوجاتا ہے؟

مشاہدات کے مطابق چاند اپنی پیدائش کے 17 سے 24 گھنٹے کے بعد دکھائی دینا شروع ہو جاتا ہے۔ اس کا مخصوص وقت اس لیے متعین نہیں ہے کیونکہ ہمیں بہت سے دیگر معاملات کو دیکھنا پڑتا ہے مثلاً اس کا سورج سے فاصلہ اور غروب کے اوقات کا فرق کتنا ہے۔ کبھی کبھار چاند سورج سے محض 17 گھنٹے میں ہی اتنے فاصلے پر آ جاتا ہے کہ عام آنکھ سے دکھائی دینا شروع ہو جاتا ہے، جب کہ کبھی کبھار اس کو 23 گھنٹے سے بھی زیادہ کا وقت لگ جاتا ہے۔ عام آنکھ سے دکھائی دینے کے لیے ضروری ہے کہ چاند کی افق سے اونچائی 9 ڈگری تک ہو، چاند اور سورج کے غروب کے مابین 40 منٹ کا وقفہ ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ پیدائش کو 17 گھنٹے گزر چکے ہوں۔

تو پھر 12 مئی کو چاند کے کیا احوال تھے؟

بارہ مئی کی شام کو چاند افق سے محض ساڑھے چھ ڈگری اونچا تھا، سورج سے 36 منٹ بعد غروب ہوگیا تھا، اس کے علاوہ اس کی عمر 19 گھنٹے تھی۔ جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے کہ صرف چاند کی میں variation ہوسکتی ہے لہٰذا دیگر کیلکولیشنز کو دیکھتے ہوئے یہ واضح تھا کہ پاکستان بھر میں چاند کی روئیت ممکن نہیں ہے لیکن اس کے باوجود "نظر" آگیا۔

تیرہ مئی کا چاند بڑا کیوں تھا؟

اب ہم اصل مدعے کی طرف آتے ہیں جس کی وجہ سے اوپر طویل کہانی لکھی گئی۔ یاد رکھیے گا کہ 30 کے مہینے کے بعد جو پہلی کا چاند دکھائی دیتا ہے، وہ بڑا ہی ہوتا ہے، اسی طرح جیسے ذکر کیا گیا تھا کہ چاند کی عمر پاکستان میں 12 مئی کو 19 گھنٹے تھی تو 13 مئی کو اس کی عمر  43 گھنٹے ہوگئی، اسی طرح افق سے بلندی 16 ڈگری سے بھی زیادہ ہوچکی تھی لہٰذا ایسے موقع پر پہلی کا چاند بڑا واضح اور روشن ہی ہونا چاہیے۔ محض عام آنکھ سے چاند کے سائز کو دیکھ کر اس کی عمر کے اندازے لگانا کم علمی کو ظاہر کرتا ہے۔

کیا شہادتیں ملنے سے سائنس غلط ثابت ہوگئی؟ 

سائنسی اندازے بالکل درست تھے، اسی لیے رات گیارہ بجے تک شہادتوں کا انتظار کرنا پڑا۔ صرف ہم نہیں بلکہ عالمی فلکیات دان بھی اس اعلان کو غلط کہہ رہے ہیں۔ ماضی میں ایسا بھی ہوتا رہا ہے کہ کچھ سادہ لوح افراد کی جانب سے سیارہ زہرہ، عطارد یا باریک بادل کے ٹکڑے کو چاند کہہ کر شہادتیں جمع کروائی گئی ہیں، لہٰذا انسانی غلطی سے سائنس غلط ثابت نہیں ہوتی۔

اس سارے معاملے پر ماہرین فلکیات یا علم فلکیات جاننے والے علماء کرام خاموش کیوں ہیں؟

ہمارے ہاں عوام الناس میں یہ روش پائی جاتی ہے کہ سائنسی دنگل سجتا ہے تو ہم سب سیاسی امور کے ایکسپرٹ بن جاتے ہیں، پڑوسی ملک سے نوک جھوک ہوجائے تو عسکری مشوروں کی بہتات ہوجاتی ہے۔ ہم میں سے ہر شخص نیم ڈاکٹر بھی ہے، یہ ہمیں کورونا نے بتایا ہے، اسی طرح چاند کے دیکھنے کا موسم ہو تو ماہر فلکیات بن جاتے ہیں یعنی ہم بیک وقت سیاسی، عسکری، سائنسی، فلکیاتی، طبی اور مذہبی مسائل کے ماہر بنے پھرتے ہیں یہی وجہ ہے ایسے معاشروں میں اگر ان امور پر کوئی ماہر بات بھی کرنا چاہے تو اس کی بات کو نظرانداز کردیا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں کم علمی کا یہ لیول ہے کہ 11 مئی کو چاند کی پیدائش سے پہلے ہی شہادتوں کے انبار لگ چکے تھے، ایسا معاشرہ پروفیشنلز کی رائے کو کیسے برداشت کرسکتا ہے؟ متعدد پروفیشنل فلکیات دانوں کو میں ذاتی طور پر جانتا ہوں جو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز عوام کے انہی رویے کے باعث چھوڑ چکے ہیں اور جو پروفیشنلز ان معاملات پر اب بھی بول رہے ہیں، ان کی بات پر توجہ دینے کی بجائے ہم سب محض چاند کو دیکھ کر اس کی عمر کے اندازے لگا رہے ہیں۔ یہ خطرناک بات ہے کیونکہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہم کسی معاملے کو صحیح طرح سمجھنے کی بجائے اسے ہنسی مزاح میں اڑانے کے عادی ہوچکے ہیں، ہم اپنی جانب سے "ماہرانہ" رائے پیش کررہے ہوتے ہیں مگر دنیا اس پر ہنس رہی ہوتی ہے۔ بہرحال چونکہ یہ اعلان حکومت پاکستان کی جانب سے کیا گیا ہے جس وجہ سے اب ہمیں آگے کی جانب دیکھنا چاہیے کیونکہ جو بھی ہوا اگر غلط ہوا ہے تو اس کا وبال متعلقہ افراد پر ہی ہوگا۔ یہ تحریر صرف آپ کو سارا scenario سمجھانے کے لیے لکھی گئی کہ سائنس غلط ثابت نہیں ہوئی نیز سائنسی علم مستند جگہوں سے ہی سیکھیے، ایک انسان بیک وقت تمام علوم میں کامل نہیں ہوسکتا لہٰذا اگر کسی معاملے کا علم نہیں تو جگ ہنسائی سے خاموش رہنا بہتر ہے۔ اس متعلق ایک حدیث بھی موجود ہے جس میں بتایا گیا کہ قرب قیامت لوگ پہلی کا چاند دیکھ کر کہیں گے کہ یہ تو دوسری تاریخ کا ہے۔ بہرحال ساتھ منسلک تصویر میں نیویارک میں 12 مئی کو دیکھا جانے والا چاند ہے جو 1.2 فیصد روشن تھا، پاکستان میں 12 مئی کو چاند 0.5 فیصد روشن تھا یعنی اس سے آدھے سے بھی کم روشن تھا جس کو دیکھنے کا کچھ افراد نے دعویٰ کیا لہٰذا تحریر کا لُبِ لباب یہ ہوا کہ 12 مئی کے اعلان کو سائنسی و تکنیکی اعتبار سے درست نہیں کہا جاسکتا۔



کوئی تبصرے نہیں